Showing posts with label پروفائل. Show all posts
Showing posts with label پروفائل. Show all posts

Friday, 3 February 2017

Profile By Yasir Gill

Refered back 
This is biographical piece. Profile is different from it.  Read some good profile and lecture/notes on profile
Observe proper paragraphing. What is special trait, uniqueness in his personality? 
See profile of Mama Vishan and Kafeel Bhai cricketer of Ghotki, link are on FB group. Without changes it is not worth publishing. 

پروفائل:ڈاکٹرعصمت اللہ کاکا
محمد یاسر (MC#64/2K15/PART:III ( 
ڈاکٹر عصمت اللہ کاکا

تعلیم دنیا کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے،لیکن جب اس ہتھیار کو زنگ لگا دیا جائے تو وہ ایک وزن سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔اگر ہم اس قول کو سامنے رکھ کر اپنے معاشرے کا موازنہ کریں تو تقریباً ہماری تعلیم کو زنگ لگ چکاہے۔اور اس زنگ زدہ تعلیمی معاشرے میں اگر کوئی علم کی چاہت رکہنے والا ہو تو یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بات ہے ،جی میں بات کر رہا ہوں علم بانٹنے والے ڈاکٹر عصمت اللہ کاکا صاحب کی جو 1جون0 198کوضلع مٹیاری کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم،میٹرک اپنے ابائی گاؤں سے پاس کی ، 
انٹر میڈیٹ کا امتحان حیدرآباد میں دیا،پوسٹ گریجویٹ ’’ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن‘‘ میں سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام سے کیا۔اور سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ہی سے ’’اینیمل ریپروڈیکشن تھریولوجی‘‘ میں ماسٹر کیا۔تعلیم کا شوق آپ کو ملایشیا تک لے گیا آپ نے یونیورسٹی آف پٹر ملا یشیا سے ’’اینیمل ریپروڈیکشن تھریولوجی‘‘ میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔آپ کا تعلق ایک تعلیمی گھرانے سے ہے آپ کے والد محترم ایک ریٹایرڈ ٹیچر رہ چکے ہیں گھر میں تعلیمی ماحول ہونے کی وجہ سے آپ کی طربعیت ایک اچھے ماحول میں ہوئی ،آپ کی مادری زبان سندھی ہے لیکن آپ کو اردو اور انگلیش پر بھی عبور حاصل ہے۔2005میں اپنی پھپھو کی بیٹی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ،آپ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔آپ کو شروع ہی سے اپنے خاندانی پیشہ یعنی ٹیچر بننے کا شوق تھا ۔اس پیشے کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے انتھک محنت کی، آپ کی محنت کا پھل آپ کو اس وقت ملا جب آپ 18اگست 2015کو سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام میں بطور لیکچرر منتخب ہوے ۔اس سے پہلے آپ دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی بطور لیکچرر خدمات انجام دے چکے ہیں جن میں زیر غور نام ہے لسبیلا یونیورسٹی ہے اس کے علاوہ ایک این جی او میں بطور ویٹرنری ڈاکٹر کی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں ۔آپ نچلے لیول پر پاکستان پیپلزپارٹی کو سپورٹ کرتے ہیںآپ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ،آپ کا کہنا ہے کے کرپشن کے خاتمہ کے بعد ہی پاکستان ترقی کر سکتا ہے ۔سندھ کی ناقص تعلیمی صورتحال پر آپ کا موقف ہے کہ میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور تعلیمی شعبہ میں کرپشن کو ختم کیا جائے اور سب سے اہم تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی جائیں۔آپ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں آپ نے سماجی کاموں میں شامل این جی اوزکے ساتھ مل کر سندھ کے دیھی علاقوں کے ترقیاتی کاموں میں حصہ لیا ،ان این جی اوز میں سندھ رورل ڈولپمنٹ پروگرام اور تھردیپ شامل ہیں ۔آپ کی نظر میں سندھ کے دیھی علاقوں کا اہم مسئلہ صحت اور تعلیم ہے ،حکومت کو ان مسائل کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔آپ کے آئیڈیل آپ کے والد صاحب ہیں آپ کا کہنا ہے کے انہوں نے اپنے والد سے بہت کچھ سیکھا۔آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل حالات کا سامنہ کرتے ہوئے تعلیم کا زیور حاصل کیا ۔آپ کی نوجوانوں کے لئے نصیحت ہے کہ کبھی بھی شارٹ کٹ کا راستہ اختیار مت کریں بلکہ اپنی محنت کو جاری رکھتے ہوئے اپنا گول حاصل کریں۔اگر شارٹ کٹ اپنائیں گے تو آنے والے دنوں میں آپ کو مشکلات کا سامنہ رہے گا۔

Tuesday, 31 January 2017

پروفائل: ارشاد ,زونورڍن

        It is too short. 600 words are required. Composing should be in inpage format, because in Roshni only inpage is used. U sent in word format. 
Always send file with proper name and proper subject line otherwise  it will not be accepted. Add more material. It is referred back. Ur name roll number, should also be written in file in language in which u r filing piece. Check ur mail                                                                                           
    سر ارشاد

دنیا مین اپنے مزاج اور اپنی خوش احلاقیات کی وجہ سے بھت سے لوگ اپنے معاشرے میں اعلٰی مقام اور بلند درجے پر فائذ ہیں اور سر ارشاد ان مین سے ایک ہیں جنھوں نے اپنے قردار مزاج اور کام سے اس معاشرے میں ایک اچھا مقام حاصل کیاـ سر ارشاد ایک ٹیچر ہین جو کہ سی-ایس-ایس کے شاگردوں کو پڑھاتے ہیں ـ
انکے ایک شاگرد سے معلوم ہوا کہ وہ ایک نہایت رحم دل اور پختہ شخصیت کے حامِل انسان ہیں ـ اور آذاد خیالات اور اچھا نظریہ رکھتے ہیں ـ سر ارشاد ایک ہاتھ سے معزور ہیں ـ مگر پھر بھی انھوں نے ہمت نا ہاری اور اپنی جدوجہد کو جاری و ساری رکھا ـ 
وہ اپنے آپ سے ذیادہ دوسروں کا خاص خیال رکھتے اور فائدہ پھنچاتے ہیں ـ انکا مقصد غریب بچوں کو پڑھانہ اور تعلیم مھیا کرنا ہے 
جس سے غریبوں کے بچے بھی اس معاشرے کےُ ساتھ مِل کر چل سکے اور اپنا مقام حاصل کر سکے ـ
یہ وہ شخص ہین جن کا دل لگوں کے لئے ہمدردی سے بھرا ہےـ

انکے اس جذبہ کو دیکھ کر ایک امید پیدا ہوتی ہےـ جس سے معاشرے مین کافی سر ارشاد سے لوک بنتے ہیں جو لوگوں کے لئے اُمید کا باعث ہوتے ہیں