Showing posts with label Musrat Talpur. Show all posts
Showing posts with label Musrat Talpur. Show all posts

Wednesday, 22 February 2017

کیا قسمت ہاتھوں کی لکیروں پر لکھی ہوتی ہے: مسرت ٹالپر Musrat Talpur


نام: مسرت ٹالپر 

کلاس BS-III
رول نمبر 2 K15/MC/65 



آرٹیکل:کیا قسمت ہاتھوں کی لکیروں پر لکھی ہوتی ہے

انسان فطری طور پر بہت جلد بازاور متجس ہوتا ہے،وقت سے پہلے آنے والے وقت کو جاننے کی کھوج انسان 
کو کبھی ستاورں کی چال دیکھنے پر مجبور کرتی ہے تو کبھی اپنی ہاتھوں کی آڑی ٹیڑی لکیروں کو پڑھوانے کا شوق پالمسٹ اور ماہرے نجوم کا در کھٹکھٹانے پہ مجبور کرتا ہے ۔
ہاتھ کی یہ ٹیڑی میڑی لکیریں ماہرین نجوم کہ مطابق انسان کی شخصیت اور مستقبل کہ بارے میں بتاتی ہیں ،ہاتھوں پر بنی چھوٹی بڑی لکیریں الگ الگ ناموں سے جانی جاتی ہیں جو لوگوں کی شخصیت کہ بارے میں الگ باتیں بتاتی ہیں،جیسے ماہر نجوم کا کہنا ہے کہ ہاتھ ملا کر دیکھا جائے تو دونوں ہاتھوں کی لکیریں مل کر (ب ) کا حرف بناتی ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے نشان رکھنے والے لوگ اپنے مستقبل کی نشاندھی بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں ،اور یہ لوگ دوسروں کہ بارے بہتر راء قائم کر سکتے ہیں اور اس کوالٹی کی وجہ سے ان کی زندگی بہت کامیاب ہوتی ہے،ایسے لوگ اپنی زندگی کے فیصلے اچھے طریقے سے کرتے ہیں ۔ماہرے نجوم کا کہنا کہ اگر اس (ب) کو ہاتھ الگ کر
کہ دیکھا جائے تو آدھی (ب) بنتی ہے جو لوگوں کی لگن کہ بارے میں بتاتی ہیں کہ آپ کسی چیز کولے کہ کتنی لگن ہے،جتنی گہری یہ لکیرہوتی ہے اتنی آپ کی گہری لگن تصور کی جاتی ہے. ان لکیروں کی طرح ہاتھوں پر اور بہت سی لکیریں ہوتی ہیں جو الگ الگ نام سے جانی جاتی ہیں جیسے آدھی (ب) کہ نیچے بنی ایک لکیر ہوتی ہے جسے دماغ کی لکیر یا ہیڈ لائین کہا جاتا ہے،اور اس ہیڈ لائین سے جڑی ایک اور لکیر ہوتی ہے جسے زندگی کی لکیر کہا جاتا ہے. ماہرین کے مطابق اگرآپ کی اس لکیر میں اضافی لکیریں ہیں تو یہ اضافی لکیریںآ پ کی زندگی میں ہونے والے کسی حادثے کی پیشنگوئی کرتی ہے،اس کہ علاوہ اگر آپ کی لائف لائن بہت بڑی ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ آپ لمبی عمر پائیں گے اور اگر یہ لکیر ٹوٹی ٹوٹی بنی ہو تو اس کا مطلب آپ کو صحت کہ مسائل پیش آسکتے ہیں۔
ہاتھ کی لکیروں کو پڑھنا پڑھانا اس کو دیکھ کے قسمت بتانا اس پر یقین آنا صدیوں سے چلتا آرہا ہے، اور اگر دیکھا جائے تو یے ہماری ثقافت بن چکا ہے۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ قسمت ہاتھوں پر لکھی ہوتی ہے اور ان ہی لکیروں میں اپنی تقدیر کو جاننے کہ لیے ماہرے نجوم یا پالمسٹ کہ دروازے پر اپنے پیسے لٹاتے ہیں کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے پتا چل جائے کہ ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے،لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری قسمت کاپتاتو صرف ہماری قسمت لکھنے والے کو ہی ہے،بہت سے لوگ اسی بات پر یقین رکھتے ہیں او ر اسی باتوں کو نظر اندازکرتے ہیں کہ ہاتھوں کی لکیریں بھی کیا ہماری قسمت کاحال بتا سکتی ہیں۔
یہ ساری باتیں ان کا عقیدا بن چکی ہیں جو ان باتوں کو مانتے ہیں اور اگر قسمت واقعی ہاتھوں کی لکیروں پر لکھی ہوتی تو انسان کو کچھ کرنا ہی نہ پڑتا نہ محنت کرتے اور نہ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کہ لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے نوکری کہ لیے،اور اگر ایسا ہی ہوتاتوانسان اپنے بارے میں سب کچھ جان جاتا اپنے مستقبل میں ہونے والی ہر سرگرمیوں سے واقف ہوتا ،لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے،جہاں تک ایسے علم کی دعوا رکھنے والوں کا تعلق ہے کہ وہ کیوں کامیاب ہیں توان کہ لیے اپنے دام میں لینااس لیے ہے کہ ایسے لوگ فنکار ہوتے ہیں وہ سامنے والے شخص کہ چہرے سے اس کے ماضی کی ایک تصویر بنا لیتے ہیں اور اسے آپ کہ سامنے کتاب کی طرح پڑھتے ہیں جس میں آپ انجانے میں ہی شریک ہوجاتے ہیں اور آپ کے جملوں سے وہ ایک پورا نقشہ بلکل ایسے ہی تیار کر لیتے ہیں جیسے ایک ماہر تعمیرات آپ کے خیالات سننے کے بعدآپ کی من پسند گھر کا نقشہ تیارکر لیتاہے۔اور اگر واقعی قسمت ہاتھوں کی لکیروں پرلکھی ہوتی تو یہ ایک شعر اس کو غلط ثابت کرنے کہ لیے کافی ہے۔۔۔۔
مت کر ہاتھوں کی لکیروں پے یقین                                            
کیوں کہ تقدیر تو ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے                         

Interview:Muhammad Azam Roonjho (Librarian) by Musrat Talpur

نام : مسرت ٹالپر (2k15/MC/65)
اسائنمینٹ: انٹرویو
انٹرویو: محمد اعظم رونجھو(لائبریری انچارنج)




تعارف:دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو کتابوں سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ ان کہ بیچ رہنا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں ان ہی میں سے ایک شخصیت محمد اعظم رونجھو کی ہے جو پچھلے کچھ سالوں سے یونیورسٹی آف سندھ کی سینٹرل لائبریری میں لائبریری انچارج کی حیثیت سے اپنی زمینداریاں پوری کر رہے ہیں۔
س:آپ لائبریریئن کیسے بنے؟
ج:میں جب پانچھویں کلاس میں تھا تب سے ہی لائبریری میں پڑھنے جاتا تھا،پھر جب میں آٹھویں کلاس میں آیا تو پبلک لائبر یری کا میمبر بن گیا اس وقت لائبریری کی فیس پانچ روپیہ تھی ،جب میں نے میٹرک کیاتو اس لائبریری میں تقریبن ساری کتابیں میں نے پڑھ لی تھی ،یہی وجہ ہے مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور اسی وجہ سے آج میں لائبریریئن ہوں۔
س:آپ اپنی پوسٹ سے کتنے مطعمن ہیں؟
ج:لائبریری کی پوسٹ میری پسندیدہ ہے ،کیوں کہ میں لائبریری کو پہلے ہی پسند کرتا تھا ، ۱۹۸۷ میں ڈپارٹمینٹ آف لائبریری انفارمیشن سائنس میں ایڈمیشن لی،یہی وجہ کہ آج میں اس پروفیشن میں ہوں اور بہت مطعمن بھی ہوں۔
س:ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک اچھی پوسٹ پر جاب کرے آپ ایک لائبریریئن ہیں اور اپنی پوسٹ سے بہت مطعمن بھی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
ج:سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اور میں پہلے سے ہی لائبریری کو پسند کرتا تھا ، ڈپارٹمینٹ آف لائبریری انفارمیشن سائنس مکمل کرنے کہ بعد میں نے یونیورسٹی آف سندھ کی سینٹرلائبریری میں اپلاءِ کیاتو ۱۹۸۸میں کلاسیفکیشن کی پوسٹ پر مجھے اپائٹمینٹ مل گئی ،میں نے بہت محنت کی وہاں کہ لائبریریئن مجھے بہت پسند کرتے اور مشکل سے مشکل اسائنمینٹ دیتے اور میں اسے مکمل کرتا ،ایسے ہی پھر آگے ترقی ہوتی گئی،اسی دوران میں نے بہت امپرومینٹ کی ،سب سے پہلے Auto-Mission میں دلچسپی لی،اس کہ بعد پھر HECکی طرف سے Digital Liabraryپرملے جانے والے لیکچریونیورسٹی کہ الگ الگ ڈپارٹمینٹ میں دیتا رہا ،اور ابھی بھی لیکچر دیتا ہوں۔
س:آپ کہ پاس زیادہ تر کون سے ڈپارٹمینٹ سے طلبہ و طالبات آتے ہیں کتابیں لینے؟
ج:میرے پاس زیادہ تر طلبہ وطالبات کمپیوٹر سائنس ،انفارمیشن ٹیکنالاجی ،پلانٹ سائنس ،انتھراپالاجی،فریش واٹر بائیولاجی،فزکس ،انگلش،سندھی اور اردو ڈپارٹمینٹ میں سے کتابیں لینے آتے ہیں،یہاں پر تقریبن چار لاکھ کہ قریب کتابیں موجود ہیں۔
س:آج کل E.Bookکا رجعان بہت بڑہ گیا ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ E.Bookکہ بعد ہارڈ بک پڑھنے میں کمی آئی ہے؟
ج:ہاں E.Book کا رجعان بہت بڑہ گیا ہے اس کی وجہ یے ہے کہ ہارڈ بک زیادہ نہیں پڑھی جاتی ایک تو وہ لِمٹ میں آتی ہے اور ہر ایک بندا اسے نہیں خرید سکتا ، Digital Liabrary اور E.Book پوری دنیا میں بہت آسانی سے پہنچ جاتا ہے،کہیں سے بھی Download کیا جا سکتا ہے یا پیسے دے کہ بھی خریدا جا سکتا ہے۔
س:آپ کہ حساب سے زیادہ بک کون سی پڑھی جاتی ہے؟
ج: زیادہ جو بک پڑھی جاتی ہے وہ انگلش کی ہوتی ہیں انگلش کہ ڈرامے ،کومک اور کہانیاں زیادہ پڑھی جاتی ہیں۔
س:لائبریری میں کس قسم کی کتابیں ہیں؟
ج:سندھ یونیورسٹی میں ۶۰ کہ قریب ڈپارٹمینٹ ہیں تو ہر ڈپارٹمینٹ میں ۶ ،۷ یا ۹ الگ الگ کتابیں ہوتی ہیں توہر قسم کی کتابیں لائبریری میں موجود ہیں۔
س:لائبریریئن کی حیثیت سے آپ پڑھنے والوں کو کیا پیغامات دینا چاہتے ہیں؟
ج: میں پڑھنے والوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ ریڈنگ ہیبٹ کو بڑھاہیں ،گلوبلائیزیشن کی زمانہ ہے یہ نہیں کہ ہم صرف لوکل سطح پر مقابلہ کریں ہمیں دنیاکہ ساتھ مقابلہ ہے۔خاص کر کہ طلبہ کو اپنے سبجیکٹ کی کتابوں کو اہمیت دیں اس کہ بعد جنرل سطح کی کتابوں پر توجہ دیں*