Wednesday 22 February 2017

پاکستان میں بجلی کا بحران : امرہ شیخ


            آرٹیکل 
(2k15/MC/34 BS-III) امرہ شیخ

"پاکستان میں بجلی کا بحران "



پاکستان میں گرمی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ۸ سے ۵ا گھنٹے ہوجاتا ہے۔ 
انسان کو زندگی گزارنے کے لئے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی اور گیس بھی انہی بنیادی ضرورت میں شمار ہوتے ہیں۔ انکے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی محال سا لگتا ہے۔ لکڑی ، کوئلہ وغیرہ جلا کر کسی طرح گیس کی کمی سے بچا جاسکتا ہے لیکن بجلی کی کمی کیسے پوری کی جائے؟
بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث امیر عوام (یو، پی، ایس) اور جنریٹرز کا ستعمال کرتے ہیں۔ لیکن غریب عوام تو اس مثنوئی چیزوں سے بھی محروم ہوتی ہے۔ غریب عوام کیا کرے کہاں جائے؟
آخر پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے؟ اگر ہم محاسبہ کریں کے پاکستان میں واپڈا ہائڈ کی ٹوٹل تھرمل گنجائش (11,272) میگاواٹ ہے۔ اور ٹوٹل کل پیداوار (آئی، پی پی، ایس ) کی (7070)میگاواٹ ہے۔ اور کل بجلی کی پیداوار (پی، اے، ای، سی) میں (802) میگاواٹ ہے۔ اور پاکستان میں پاور کی پیداوار کی گنجائش (21,143) ہے۔ اور پاکستان میں اپریل 2010 تک بجلی کی ضرورت (14,500) میگاواٹ اور (پی، ای، سی، او) کی محض گنجائش (10,000) میگاواٹ ہے۔ جب ہماری ملک میں بجلی بننے کی گنجائش ہے تو بجلی کی پیداوار کم کیوں ہوتی جاری ہے، اور اگر بجلی اتنی بن رہی ہے تو کہاں جارہی ہے؟
پاکستان میں بجلی کی کمی صنعتوں کو تباہ کررہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ عوام کو کاروبار میں نقصانات کا سامنا ہے۔ گرمیوں میں روز اس بنا پر 10 سے 12 انسان گرمی کی شدت سے دم توڑ دیتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث ہسپتالوں میں ہونے والے آپریشن تک روک جاتے ہیں۔ اور بچوں کو پڑھنے میں مسائل پیش آتے ہیں۔ بچے ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر پر سکون ماحول میں رہیں گے ، پڑھیں گے۔ تعلیم حاصل کریں گے تو ملک ترقی کی جانب بڑھے گا۔ 
ملک بھر میں ۸ سے ۵ا گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ نے سماجی کاروباری معاشی اور گھریلو زندگیوں کو کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جسکی وجہ سے ملک کی عوام غیض و غصب بن کر سراپا احتجاج ہو کر سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔ کسی کی شکایت ہوتی ہے دو دن سے بجلی نہیں ہے اور کسی کی بجلی گئی تو واپس آئی ہی نہیں ہے۔ 
ایسی ہی کروڑوں عوام جو آج بجلی کی بندش سے بلبلا اٹھتے ہیں۔ بجلی کے ساتھ ان کی معاشی زندگی کا تار جڑا ہے۔ لوڈ شیڈنگ نے برا حال کیا ہوا ہے۔ 
حقیقت میں جب کسی ملک کی آبادی بڑھتی ہے تو اس ملک کو اپنے وسائل میں اس قدر تیزی سے اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ وہ معاشی بحران کا شکار ہوجاتے ہیں۔۔ اس سے ہمارا ملک انر جی یا توانائی کا شکار ہوتا ہے۔ ہم الزام دریاؤں میں پانی کی قلت کو دیتے ہیں۔ کہ ڈیموں میں پانی کی مطلوبہ سطح نہیں ہے۔ جب کہ یہ چیز تو ہمیں بہت پہلے مد نظر رکھنی چاہئے تھی۔ اسکا متبادل نظام رکھنا چاہئے تھا۔ آج ہماری ہی لا پرواہی کی وجہ سے نہ صرف ہماری اپنے ہی گھروں میں اندھیرا ہے۔ بلکہ ہماری نسلوں کا مستقبل بھی تارکیوں میں ڈوب گیا ہے۔ 
اگر دیکھا جائے تو تربیلا ڈیم کے بعد ہم نے کوئی بھی ڈیم نہیں بنایا۔ بس زبانی جمع خرچ کرتے جارہی ہیں۔ اگر ماضی میں ڈیم تعمیر کرلیے جاتے تو سرمایہ بھی خرچ ہوتا اور توانائی کا بحران بھی نہ ہوتا۔ ڈیموں کے ذریعے جو بجلی حاصل کی جاتی اس سے قدرتی گیس اور تیل کی بچت الگ ہوتی جیسے ہم کسی اور کام میں بھی لاسکتے تھے۔ 
اﷲ تعالی نے پاکستان کو سورج اور ہوا کی اتنی دولت سے نوازہ ہے کہ شاید ہی کسی ملک کے پاس اتنی دولت ہو۔ سورج کی روشنی سے بجلی پورا شہر ملک، دنیا تک روشن ہوسکتی ہے۔ 
مہذب قومیں مستقبل پر نظر رکھتی ہیں اور جامع منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے بحرانوں سے نپٹنے کے بعد آئند کا لائحہ عمل بھی تیار کرلیا ہے۔ وہ توانائی کا متبادل ذرائع پر بھی کام کررہے ہیں۔ 
ایک وقت بعد جب دنیا میں تیل ، گیس کے ذرائع ختم ہوجائے گے اور ڈیموں کے لئے پانی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت متبادل روشنی، ہوائیں ہوں گی جو کبھی ختم نہ ہونگی اب وہ لوگ اس طرف کے تجربات میں مگن ہیں۔ ضرورت اس امر کی کہ ہم اپنے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے بعد حکمت عملی طے کریں گے۔ اور بجلی کے اس ہنگامی بحران پر قابو پاسکیں گے۔ اور ایک خوشحال ملک کی طرح ترقی کی طرف گامزن ہونگے۔ 


No comments:

Post a Comment